Friday, June 3, 2011

امریکہ اپنی غلطیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا بند کرے

English version

سچ تو یہی ہے کہ اسامہ بن لادن آٹھ سال تک پاکستان کے ایک بہترین علاقے میں واقع بنگلے میں رہتا رہا اور اپنی تین بیویوں کے ساتھ زندگی کے مزے لوٹتا رہا۔ ان برسوں کے دوران امریکی، جن میں میں بھی شامل ہوں، یہ سمجھتے رہے کہ دہشتگردوں کا سرغنہ تاریک غاروں میں چھپا ہے اور کیڑے مکوڑوں پر گزارا کر رہا ہے۔ تب بھی امریکہ کی اس 'شرمندگی' پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کا کوئی جواز نہیں جو کبھی تسلیم نہیں کی گئی۔
9/11 کے جواب میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ہمارے ملک کی تاریخ میں خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی حماقت کی۔ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کی کارروائی کی مذمت اور انہیں محرم قرار دینے کی بجائے صدر صاحب نے اپنی انتظامیہ میں شامل نظریہ سازوں پر زیادہ اور عقلِ سلیم پر بہت کم توجہ دی۔ کیا ہوتا اگر بش امریکی عوام کو صاف صاف بتا دیتے کہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور اسلام کی بجائے امریکہ پر حملوں کے ذمہ دار چند دہشگرد ہیں تو کیا ہوتا؟ 9/11 کے بعد پوری دنیا، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، ہمدردی اور سچے دل سے ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔ مسلمان ممالک ذمہ داروں کو پکڑنے میں ہماری مدد کرنا چاہتے تھے، شاید دیگر ممالک سے بھی زیادہ کیونکہ انہیں مسلمان مخالف ردِعمل کا خطرہ تھا۔
تاہم، بش اپنی انتطامیہ میں شامل نیو کونز، جیسے کہ نائب صدر ڈک چینی اور وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے غلبے میں آ گئے جنہوں نے دنیا کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا پسِ پردہ محرک یہی تھا کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اس کے بعد کرۃ ارض کی بہترین فوج ہے۔ بے شک طالبان نے القاعدہ کا ساتھ دیا تھا لیکن افغانستان سے باہر بھی ایسے بہت سے لوگ تھے۔
ایسے میں جبکہ امریکی عوام عوامی میڈیا میں اس کے مقابلے میں کوئی دلیل نہیں سن پا رہے تھے اس لیے وہ دو جھوٹ تسلیم کر گئے۔ پہلا یہ کہ طالبان اور القاعدہ بنیادی طور پر ایک ہی نوعیت کی تحریکیں ہیں۔ اس لیے ہمیں افغانستان پر حملہ کرنا ہے۔ لیکن جب یہ حملہ جواب دے گیا اور جذباتی تسلی نہ ہو سکی تو بش انتظامیہ نے اسے امریکی عوام کے حوالے کر دیا؛ اور پھر دوسرے جھوٹ کی شکل ابھرنا شروع ہوئی۔ وہ یہ تھا کہ امریکہ کو عراق پر بھی حملہ کرنا ہو گا، اور اس پر یقین کرنا امریکیوں پر چھوڑ دیا گیا کہ سکیولر صدام حسین اور اسلامی بنیاد پرست اسامہ بن لادن کے درمیان نظریاتی اور ٹیکٹیکل تعلق ہے۔
اب جبکہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے امریکہ کو چاہیے کہ پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کو الزام دینا بند کرے۔ بحیثیت قوم ہمیں یہ کرنا ہے کہ 'اپنی شرمندگی کو اپنائیں'۔ ممکن اسلام آباد ہمیں چکر دے رہا ہو۔ لیکن کیا وائٹ ہاوس اور کانگرس کے ان فیصلوں کے ذمہ دار پاکستانی ہیں جن کے نتیجے میں ہم نے غیر ضروری جنگوں میں تین کھرب ڈالر ضائع کر دئیے، امریکی شہری اپنے 5,885 پیارے کھو بیٹھے اور عراق اور افغانستان میں پانچ لاکھ لوگ مارے گئے؟ اس دو طرفہ نقصان میں بڑا حصہ خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ بھی حیرت کی بات نہیں ہو گی کہ اب عالمِ اسلام کا بڑا حصہ 9/11 سے پہلے سے بھی زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ اور اگر امریکی شرمندہ نہیں ہیں تو انہیں اب ہونا چاہیے۔